Home / Quran / Introduction Of Surah Al Fatihah

Introduction Of Surah Al Fatihah

Introduction Of Surah Al Fatihah

 

Listen Complete Surah Fathia

سورہ فاتحہ کا تعریف

(1)۔سورہ فاتحہ مکیہ بھی ہے مدنیہ بھی ،اس سورۃ میں سات آیتیں ستائیس کلمے ایک سو چالیس حروف ہیں۔
(۲)۔”بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ“، جو”بِسْمِ اللہِ” ہر سورت کے اوّل میں ہے یہ پوری آیت ہے اور جو سورۃ نمل میں ہے وہ آیت کا جزو۔ خیال رہے کہ”بِسْمِ اللہِ” ہر سورۃ کے اول نازل نہیں ہوئی بلکہ ایک جگہ نازل ہوئی پھر وہ مکرر کردی گئی تاکہ سورتوں میں فاصلہ ہوجائے ۔اسی لئے “بِسْمِ اللہِ” سورۃ کے اوپر امتیازی شان میں لکھی جاتی ہے، آیات کی طرح ملا کر نہیں لکھتے۔ نیز امام جہری نمازوں میں”بِسْمِ اللہِ” آواز سے نہیں پڑھتا، نیز حضرت جبریل جو پہلی وحی لائے وہ”اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَق” تھی اس میں “بِسْمِ اللہِ ” نہ تھی تراویح میں حافظ امام کو چاہیے کہ کسی سورۃ کے اول میں “بِسْمِ اللہِ” آواز سے پڑھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر اچھے کام کو “بِسْمِ اللہِ ” سے شروع کرنا چاہیے، حضرت سلیمان نے بلقیس کو خط لکھا تو اوّل”بِسْمِ اللہِ” لکھی اس کی برکت سے انہیں ملکہ یمن اور ملکِ یمن عطا ہوئے، ہمارے حضور نے صلح حدیبیہ کی تحریر “بِسْمِ اللہِ” سے شرو ع کی تو آپ کو فتح مکہ عطا ہوئی ،مگر ذبح پر صرف بِسْمِ اللہِ الله اکبر کہے، کیونکہ قہر کے کام پر رب کی رحمت کا ذکر نہ کرے، اِسی لئے حضور کا نام ذبح پر نہیں لیا جاتا۔
(۳)۔ “بِسْمِ اللہِ” کی “ب” استعانت کی ہے اور اس سے پہلے فعل پوشیدہ ہے ،اس کے معنٰی ہیں شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام کی مدد سے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے سوا سے بھی مدد لینا جائز ہے، تو اللہ رسول اوراس کے نیک بندوں سے بھی جائز ہے کہ وہ بھی اسم اللہ کی طرح اللہ کی ذات پر دلالت اور رہبری کرتے ہیں اس لئے قرآن نے حضور کو ذکر اللہ فرمایا ۔
(۴)۔ اگر “اَلۡحَمْدُ” میں”الف لام” استغراقی ہو تو معنٰی وہ ہیں جو مترجم قدس سرہ نے فرمایا یعنی بلاواسطہ اور بالواسطہ ہر حمد رب کی ہی ہے کیونکہ بندے کی تعریف درحقیقت اسے بنانے والے کی تعریف ہے اور اگر لام “عہدی “ہو تو معنٰی یہ ہوں گے حمد مقبول وہ حمد ہے جو محمدصلّی اللہ علیہ وسلّم کی تعلیم سے کی جاوے۔ لہذا مشرکین و کفار خدا کی کیسی ہی حمد کریں نامقبول ہے کیونکہ وہ حضور کی تعلیم کے ماتحت نہیں۔ (روح البیان)
(۵) اس سے معلوم ہوا کہ اگرچہ(ہر) چیز کا خالق ومالک رب تعالیٰٰ ہی ہے مگر اسے اعلیٰ مخلوق کی طرف نسبت کرنا چاہیے لہذا یہ نہ کہا جائے اے ابوجہل کے رب، بلکہ محمد رسول اللہ کے رب۔
(۶)۔”نَعْبُدُ” کے جمع فرمانے سے معلوم ہوا کہ نماز جماعت سے پڑھنی چاہیے اگر ایک کی قبول ہو سب کی قبول ہو۔
(۷)۔ اس سے معلوم ہوا کہ حقیقتا مدد اللہ تعالٰی کی ہے جیسے حقیقتا حمد رب کی ہے ، خواہ واسطہ سے ہو یا بلاواسطہ۔ خیال رہے کہ عبادت صرف اللہ کی ہے ،مدد لینا حقیقتا اللہ سے، مجازاً اس کے بندوں سے۔ اس فرق کی وجہ سے ان دو چیزوں کو علیٰحدہ جملوں میں ارشاد فرمایا۔ خیال رہے کہ عبادت اور مدد لینے میں فرق یہ ہے کہ مدد تو مجازی طور پر غیر خدا سے بھی حاصل کی جاتی ہے رب فرماتا ہے:”اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ” اور فرماتا ہے “وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی” لیکن عبادت غیر خدا کی نہیں کی جاسکتی نہ حقیقتا نہ حکمًا، کیونکہ عبادت کے معنٰی ہیں کسی کو خالق یا خالق کی مثل مان کر اس کی بندگی یا اطاعت کرنا یہ غیر خدا کے لئے شرک ہے۔ اگر عبادت کی طرح دوسرے سے استعانت بھی شرک ہوتی تو یہاں یوں ارشاد ہوتا:”اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡنُ”۔ یہ بھی خیال رہے کہ دنیاوی یا دینی اُمور میں کبھی اسباب سے مدد لینا یہ درپردہ رب سے ہی مدد لینا ہے، بیمار کا حکیم کے پاس جانا ،مظلوم کا حاکم سے فریاد کرنا،گنہگار کا جناب محمدصلّی اللہ علیہ وسلّم سے عرض کرنا اس آیت کے خلاف نہیں جیسے کسی بندہ کی تعریف کرنا “اَلۡحَمْدُ لِلہِ” کے عموم کے خلاف نہیں کیونکہ وہ حمد بھی بالواسطہ رب ہی کی حمد ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ اللہ کے نیک بندے بعد وفات بھی مدد فرماتے ہیں، معراج کی رات موسیٰٰ علیہ السلام نے پچاس نمازوں کی پانچ کرا دیں، اب بھی حضور کے نام کی برکت سے کافر کلمہ پڑھ کر مومن ہوتا ہے، لہذا صالحین سے ان کی وفات کے بعد بھی مدد مانگنا اس آیت کے خلاف نہیں۔
(۸)۔ اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ رب کی تمام نعمتوں سے اعلیٰ نعمت سیدھے راستے کی ہدایت ہے کہ ہر رکعت میں اس کی دعا کرائی گئی ، دوسرے یہ کہ سیدھے راستہ کی پہچان یہ ہے کہ اس پر اولیاء اللہ اور صالحین ہوں کیونکہ وہی رب کے انعام والے بندے ہیں ۔رب فرماتا ہے:”کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ”اور وہ راستہ صرف مذہب اہلِ سنت ہے کہ اس میں اولیاء اللہ گزرے اور اب بھی ہیں، تیسرے یہ کہ ہدایت صرف اپنی کوشش سے نہیں ملتی بلکہ رب کے کرم سے ملتی ہے۔ نیز معلوم ہوا کہ گمراہوں کی ہمراہی خدا کا غضب ہے نہ ان کے سے عقیدہ رکھے، نہ ان کی سی شکل و صورت بنائے، نہ ان کی بری رسمیں اختیار کرے۔
(۹)۔ “مَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ” سے یہود اور”ضَآلِّیۡنَ”سے عیسائی مراد ہیں۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ عداوت کے کفر سے محبت کا کفر نرم ہے، یہود عداوتِ پیغمبر کی وجہ سے کافر ہیں اور عیسائی محبت پیغمبر میں حد سے بڑھ کر کافر ہوئے مگر رب نے یہود کو “مَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ” فرمایا اور عیسائیوں کو گمراہ، دوسرے یہ کہ مومن کو چاہیے کہ عقائد ، اعمال،سیرت، صورت ہر چیز میں یہود نصاریٰ اور تمام کفار سے علٰیحدہ رہے نہ ان کی سی صورت بنائے اور نہ ان کی رسمیں اختیار کرے نہ ان کے سے عقیدے اختیار کرے کیونکہ یہ تمام چیزیں کفار کا راستہ ہیں ۔مسائل : (۱)۔ ناجائز کام میں “بِسْمِ اللہِ” پڑھنا منع ہے کہ اس میں رب کے نام کی توہین ہے۔
(۲)۔ ذبح کے وقت پوری “بِسْمِ اللہِ” نہ پڑھے بلکہ یوں کہے۔ “بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرُ” کیونکہ وہ قہر کا کام ہے رحمت کا نام نہ لے۔
(۳)۔خطبہ جمعہ میں حمد واجب ہے خطبہ نکاح میں اور دعاء اور مستحب کام میں حمد الہٰی مستحب، کچھ کھا پی کر حمد سنت مؤکدہ ہے، مقتدی امام کے پیچھے نہ اَلْحَمْدُپڑھے نہ سورۃ کیونکہ امام کی قرأت اس کی قرأت ہے ، بحکمِ قرآنی خاموش رہنا اور قرأت کا سننا فرض ہے ۔اس مسئلے کی پوری تحقیق جاء الحق حصہ دوم میں ہے سورہ فاتحہ پڑھ کر آہستہ آمین کہنا چاہیے کیونکہ آمین دعا ہے اور قرآنی حکم ہے “اُدْعُوۡا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً “۔

About Moiz

Check Also

Surah Al Maida

Introduction Of Surah Al-Maida And Download Mp3

Introduction Of Surah Al-Maida And Download Mp3   Download Surah Al-Maida Mp3 Your browser does …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *