Home / Quran / Introduction Of Surah Aal-e-Imran And Download Mp3

Introduction Of Surah Aal-e-Imran And Download Mp3

Introduction Of Surah Aal-e-Imran And Download Mp3

Introduction Of Surah Al Imran And Download Mp3

 

Download Surah Aal-e-Imran Mp3

سورۃ آلِ عمران کا تعارف

(۳)۔ اس کو سورت آلِ عمران کہنے سے معلوم ہوا کہ بیوی اور بیٹی آل ہیں کیونکہ عمران کے کوئی بیٹا نہ تھا صرف بیوی حنا تھیں۔ اور بیٹی مریم ، لہذا حضور کی ازواج اور فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا اور ساری اولاد حضور کی آل ہے اس میں روافض و خوارج دونوں کار د ہے۔ یہ سورت ہجرت کے بعد اتری لہذا مدنی ہے اور اس میں تین ہزار چار سو اسی کلمے چودہ ہزار پانچ سو حرف ہیں لہذا یہ سورت ان بڑی سورتوں میں سے ہے جنہیں مئین کہتے ہیں۔
(۴)۔ شانِ نزول: ایک بار نجران کی عیسائیوں کا وفد حضور کی خدمت ِا قدس میں حاضر ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسلام کو اس لئے نہیں مانتے کہ اسلام عیسٰی علیہ السلام کو رب کا بندہ کہتا ہے ، خدا کا بیٹا نہیں مانتا، اگر وہ رب کے بیٹے نہیں تو بتائیے ان کا باپ کون ہے ۔ حضور نے فرمایا کہ بیٹا اپنے باپ کا ہم جنس ہوتا ہے۔ ا للہ تعالیٰ حی ، قیوم، ازلی ابدی، بذات خود عالم الغیب والشہادۃ ہے عیسٰی علیہ السلام میں یہ صفات نہیں پھر وہ خدا کے بیٹے اور الٰہ کیسے ہوسکتے ہیں اس پر وہ خاموش ہوگئے حضور کے کلام کی تصدیق میں سورہ آل عمران کی یہ آیات نازل ہوئیں۔ (ضروری نوٹ) اس وفد نے مسجد نبوی شریف میں اپنی عبادت اس وقت شروع کردی جب مسلمان نماز عصر پڑھ رہے تھے۔ مسلمانوں نے بعد نماز ان کو ان کی عبادت سے نہ روکا اس سے لازم یہ نہیں آتا کہ اب ہم مشرکوں کو اپنی مسجدوں میں پوجا پاٹ کرنے کی اجازت دیں۔ ان کو نہ روکنا ایسا تھا جیسے ایک بدوی نے مسجدِ نبوی شریف میں پیشاب کرناشروع کردیا تو حضور نے فرمایا کہ اسے نہ روکو اس سے مسجدوں میں پیشاب پاخانہ کی اجازت نہ ہوگی۔
(۵)۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے بعد کوئی کتاب آنے والی نہیں نہ کوئی نیا نبی تشریف لانے والا ہے کیونکہ قرآن کا کام صرف اگلی کتابوں کی تصدیق ہے کسی کتاب کی یا نبی کی بشارت دینا نہیں تصدیق گزشتہ کی ہوتی ہے بشارت آئندہ کی، نیز قرآن سے ان کتابوں کی تصدیق ہوتی ہے تو قرآن کریم نے ان کتابوں کو سچا کردیا۔ اور ان کا نام دنیا میں روشن کیا کہ قرآن کے آنے سے وہ تمام کتابیں سچی ہوگئیں، کیونکہ ان کتابوں نے قرآن کی تشریف آوری کی پیش گوئی کی تھی، اگر قرآن نہ آتا تو ان کی یہ پیش گوئی سچی کیسے ہوتی۔
(۶)۔ یعنی توریت و انجیل میں وہ آیات اتاریں جو حق و باطل میں فیصلہ کردیں۔ یا آپ پر قرآن اتارا۔ یعنی ماہ رمضان، شبِ قدر میں لوح محفوظ سے پہلے آسمان کی طرف ،کیونکہ”انزال” کے معنٰی ایک دم اتارنا ہیں۔ رب فرماتا ہے: “اِنَّاۤ اَنۡزَلْنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الْقَدْرِ” لہذا اس آیت پر کوئی اعتراض نہیں اور نہ یہ آیت دوسری آیات سے متعارض ہے ۔
(۷)۔ان کفار سے مراد نجران کے عیسائی ہیں جن کا ذکر پہلے ہوچکا۔ اللہ کی آیات سے مراد حضور کا وہ کلام ہے جو آپ نے مناظرانہ انداز میں ان سے فرمایا۔ آیات وہ علامات ہیں جن سے عیسٰی علیہ السلام کی عبدیت معلوم ہوتی ہے۔
(۸)۔ یعنی الٰہ وہ وہ جو آسمان و زمین کی ہر چیز کو ہر وقت بغیر کسی کی تعلیم و اعلام کے جانے یہ وصف کسی بندے میں نہیں۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو علمِ غیب دیا بھی نہیں، ابراہیم علیہ السلام کے متعلق قرآن کاارشاد ہے: “وَکَذٰلِکَ نُرِیۡۤ اِبْرٰہِیۡمَ مَلَکُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ” حضور فرماتے ہیں: “اَتَجَلّٰی لِی کُلِّ شَیْئ وَعَرَفْتُ” اسی لئے رب نے ہر چیز لوحِ محفوظ میں لکھ دی تاکہ ا س کے ذریعے ان خاص بندوں کوعلوم عطا فرمائے جائیں جن کی نظر لوح محفوظ پر ہے۔ دیکھو رب تعالی حی کے سمیع کے بصیر ہے ہم بھی حی کے سمیع کے بصیر ہیں، مگر فرق وہی ہے جو ہم نے عرض کیا۔

3 Surah Of Quran,
Read Complete Surah Aal-e-Imran,
Surah Aal-e-Imran Download,
Surah Aal-e-Imran Listen Online,

About Moiz

Check Also

Surah Al Maida

Introduction Of Surah Al-Maida And Download Mp3

Introduction Of Surah Al-Maida And Download Mp3   Download Surah Al-Maida Mp3 Your browser does …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *