Home / Quran / Introduction Of Surah Al-Baqarah And Download Mp3

Introduction Of Surah Al-Baqarah And Download Mp3

Introduction Of Surah Al-Baqarah And Download Mp3

Introduction Of Surah Al baqarah

 

Download Surah Al-Baqarah

سورہ البقرہ کا تعریف

(۱)۔سورہ بقر مدنیہ ہے، اس میں دو سو چھیاسی آیتیں چالیس رکوع ، چھ ہزار ایک سو اکیس کلمے پچیس ہزار پانچ سو حرف ہیں۔(خزائن)
(۲)۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے :ایک یہ کہ قرآن میں شک و تردد کی گنجائش نہیں اگر کسی کو شک ہے تو اس کو اپنی کم سمجھی کی وجہ سے ہے ،اس لئے رب نے فرمایا:”وَ اِنۡ کُنۡتُمْ فِیۡ رَیۡبٍ” اگر تم شک میں ہو قرآن میں شک ہونے کی نفی اور لوگوں کے دلوں میں شک ہونے کا ثبوت ہے لہذا آیات میں تعارض نہیں، دوسرے یہ کہ قرآن میں شک نہ ہو اس وقت درست ہو گا جب حضرت جبریل میں حضورصلّی اللہ علیہ وسلّم میں اور صحابہ میں شک نہ ہو، کیونکہ جبریل قرآن کو رب سے لینے والے حضور جبریل سے لینے والے اور صحابہ حضور سے لینے والے۔ اگر ان تین جگہ میں کہیں شک ہوجاوے تو قرآن مشکوک ہوگا، تو جو صحابی کو فاسق مانے وہ قرآن کو یقینا نہیں مان سکتا ، کیونکہ پھر شبہ ہوگا کہ شاید صحابی نے قرآن میں خیانت کرلی ہو، لہذا صحابہ کا متقی ماننا اتنا ہی ضروری ہے جتنا حضرت جبریل یا حضور کو ماننا ۔ نیز یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰٰ کو جھوٹ سے پاک مانا جائے ورنہ قرآن کا صدق یقینی نہ ہوگا۔
(۳)۔ متقی کے معنٰی ہیں ڈرنے والے یا بچنے والے، یعنی اللہ سے ڈرنے والے اور برے عقائد برے اعمال سے بچنے والے۔ تقویٰ دو طرح کا ہے: جسمانی اور قلبی، جسمانی تقویٰ گناہوں سے بچنے ، نیکیاں کرنے کا نام ہے ،قلبی تقویٰ اللہ کے پیاروں کی تعظیم کا نام ہے، رب فرماتا ہے:”وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعٰٓئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ”یہاں متقین سے مراد صحابۂ کرام ہیں یعنی یہ جو متقی تم کو نظر آرہے ہیں وہ اسی قرآن کی ہدایت سے متقی بنے ہیں، سمجھ لو کہ قرآن کیسا ہے (تفسیری عزیزی) صحابہ کا تقویٰ قرآن کی حقانیت کی دلیل ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور کی ہدایت قرآن پر موقوف نہیں، اس لئے حضور نزول قرآن سے پہلے عارف و عابد تھے نیز شب معراج عرش پر پہنچ کر نماز ملی مگر بیت المقدس میں انبیاء کو نمازپڑھا کر گئے ، آیات نماز ہجرت سے پہلے آئیں اور آیاتِ وضو ہجرت کے بعد سورہ مائدہ میں آئیں مگر اس دراز زمانے میں حضور نے وضو کرکے نمازیں پڑھیں اور لوگوں کو پڑھائیں۔
(۴)۔ غیب وہ ہے جو حواس سے اور بداھۃ سے ورا ءہو۔ غیب دو قسم کا ہے: ایک وہ جس پر کوئی دلیل بھی قائم نہ ہو ۔اسے علم غیب ذاتی بھی کہتے ہیں، دوسرا وہ جس پر دلائل قائم ہوں اسے عطائی بھی کہتے ہیں۔ پہلی قسم کا غیب جس پر کوئی بھی دلیل قائم نہ ہو رب تعالیٰٰ سے خاص ہے کسی کو مطلقًا حاصل نہیں ہوسکتا، دوسری قسم کے غیب بندوں کو عطا ہوتے ہیں، پہلی قسم کے لئے یہ آیت ہے :”عِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیۡبِ لَا یَعْلَمُہَاۤ اِلَّا ہُوَ” دوسری قسم کے غیب کے لئے بہت سی آیات ہیں۔ رب فرماتا ہے:”فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ”یہاں غیب سے یہی دوسری قسم کا غیب مراد ہے یعنی رب کی ذات و صفات، نبوت و قیامت وغیرہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بغیر غیب جانے ایمان حاصل نہیں ہوتا کیونکہ ایما ن نام ہے ان مذکورہ چیزوں کے ماننے کا اور ماننا جاننے کے بعد ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان کی جان ہے نبی پر اعتماد کرنا ۔لہذا قیامت وغیرہ کو دیکھ کر ماننا معتبر نہ ہوگا۔
(۵)۔ نماز قائم رکھنے کے معنٰی ہیں ہمیشہ پڑھنا،صحیح وقت پر پڑھنا، صحیح طریقہ سے پڑھنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز پڑھنا کمال نہیں نماز قائم کرنا کمال ہے ۔یہ بھی معلوم ہوا کہ تمام عبادتوں میں نماز مقدم ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز فرض واجب، سنت ، سب ادا کرتا رہے اور خشوع و خضوع سے ادا کرے ۔
( ۶)۔”مِنۡ” سے معلوم ہوا کہ سارا مال خرچ نہ کرے کچھ راہِ خدا میں دے اور کچھ اپنے اور بال بچوں کے لئے رکھے ۔اس کی تفصیل حدیث شریف نے بیان فرمادی ۔ “رَزَقْنَا” سے معلوم ہوا کہ مال حلال طیب اللہ کی راہ میں دے رب فرماتا ہے :”لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ” یہ بھی معلوم ہوا کہ صرف ایک دفعہ ہی خیرات پر قناعت نہ کرے بلکہ خیرات کرتا رہے ۔فرض صدقہ یعنی زکٰوۃ سال میں ایک بار اور نفل جب چاہے ، زکٰوۃ بھی حساب لگا کر تھوڑی تھوڑی دیتا رہے اس خرچ کرنے میں زکٰوۃ صدقات محفلِ میلاد میں خرچ گیارہویں شریف وغیرہ غرضیکہ ہر کارِ خیر میں خرچ کرنا شامل ہے کہ وہ سب اللہ کی راہ میں خرچ ہے، ایصالِ ثواب اس کا ہدیہ ہے ۔
(۷)۔”مَاۤ اُنۡزِلَ” سے پورا قرآن اور شریعت کے سارے احکام مراد ہیں، اس میں حدیث شریف بھی داخل ہے کیونکہ وہ بھی رب کی طرف سے اتری ہوئی ہے اگر صرف قرآن ماننا کافی ہوتا تو اتنی دراز عبادت نہ ارشاد ہوتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام آسمانی کتب پر ایمان لانا فرض ہے مگر پچھلی کتب پر اجمالاً اور قرآن پر تفصیلاً ایمان لانا فرض کفایہ ہے اجمالاً ایمان لانا فرض عین۔
(۸)۔ آخرت سے مراد قبر، حشر ، جنت، دوزخ وغیرہ سب کچھ ہے۔ معلوم ہوا کہ ان تمام چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے، اس سے اشارۃ معلوم ہوا کہ یہود و نصاریٰ آخرت پر صحیح ایمان نہیں رکھتے صحیح ایمان مسلمانوں کو حاصل ہے۔ اسی لئے “ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ” حصر سے فرمایا گیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ آخرت پر کامل ایمان جب ہوگا جب نیک اعما ل بھی کرے ، غافل مسلمان عملی طور پر کامل نہیں ، اس لئے اس سے پہلے اعمال کا ذکر بھی فرمایا۔

Second Surah Of Quran
Read Complete Surah Al Baqarah
Surah Al baqara Download
Surah Al baqara Listen Online

About Moiz

Check Also

Surah Al Maida

Introduction Of Surah Al-Maida And Download Mp3

Introduction Of Surah Al-Maida And Download Mp3   Download Surah Al-Maida Mp3 Your browser does …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *