Home / Quran / Introduction Of Surah An-Nisa And Download Mp3

Introduction Of Surah An-Nisa And Download Mp3

Introduction Of Surah An-Nisa And Download Mp3

Introduction Of Surah An-Nisa And Download Mp3

 

Download Surah An-Nisa Mp3

سورۃ انساء کا تعارف

(۱)شان نزول: بعض لوگ اپنی زیر پرورش، یتیمہ لڑکی سے محض اس کے مال کی وجہ سے نکاح کرلیتے تھے ان سے رغبت نہ رکھتے تھے اس لئے ان کی زوجیت کے حقوق ادا نہ کرتے تھے۔ اس سے روکنے کے لئے یہ آیت نازل ہوئی فرمایا گیا کہ ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں پسند ہوں۔
(۲)۔ اس حکم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم داخل نہیں،۔ آپ کو جس قدر چاہیں بیویاں حلال تھیں۔ خیال رہے کہ ایک مرد کو چند بیویاں کرنے کا اس لئے اختیار دیا گیا کہ عورتیں مردوں سے زیادہ پیدا ہوتی ہیں اور مرد جنگ و جہاد میں مارے جاتے ہیں۔ اگر چند بیویاں حلال نہ ہوں تو عورتوں کی کھپت کہاں ہوگی۔ نیز اس میں نسل کی زیادتی اور تعداد کی کثرت ہے آج کثرت تعداد پر حکومتیں قائم ہوتی ہیں۔ مگر ایک عورت کو چند خاوند رکھنے کی اجازت نہیں کیونکہ اس سے بچہ کی نسل مشتبہ ہوجائے گی خبر نہ ہوگی کہ یہ بچہ کس کا ہے کون پرورش کرے ۔
(۳)۔ جو حقوق زوجیت ادا کرنے اور عدل و انصاف پر قادر نہ ہو اسے چند بیویاں رکھنا حرام ہے۔ لیکن یہ کام جرم ہے نکاح حلال ہوگا اولاد حلال کی ہوگی۔
(۴)۔لونڈی کی کوئی حد نہیں جتنی چاہو رکھو نیز لونڈی کے حقو ق مولیٰ پر لازم نہیں نہ وہ زوجیت کے حقوق کی مستحق ہے۔
(۵)۔ اس سے دو مسئلے معلوم ہوا: ایک یہ کہ مہر کی مستحق خود عورت ہے نہ کہ اس کے ولی۔ دوسرے یہ کہ خاوند پر لازم ہے کہ عورت کا قبضہ کرادے۔ مہر تین طرح کا ہوتا ہے : مہر معجل مہر موجل اور مہر غیر مصرح ان تینوں کے علیٰحدہ احکام ہیں ۔مہر معجل میں عورت وطی سے پہلے ہی مطالبہ کرسکتی ہے۔
(۶)۔ بعض علماء اس آیت سے فرماتے ہیں کہ عورت کا مہر بڑی برکت والی چیز ہے اگر کسی کے بچہ کو شفا نہ ہوتی ہو تو وہ اپنے مہر سے اس کا علاج کرے اور درود شریف ہماری پہلی ماں حضرت حوا کا مہر ہے لہذا ہمارے لئے شفا ہے مگر یہ جب ہے کہ عورت بخوشی دے جبراً لینا یا دیا ہوا مہر واپس لینا حرام ہے رب فرماتا ہے: “فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنْہُ شَیْـًٔا” لہذا دونوں آیتوں میں تعارض نہیں ۔
(۷)۔ اس ترجمہ میں یہ اشارہ ہے کہ”اَمْوٰلِکُمْ” میں اموال کی نسبت کم کی طرف قبضہ کی نسبت ہے نہ کہ ملکیت کی اور ان مالوں سے یتیم کے وہ ذاتی مال مراد ہیں جو ان کے ولیوں کے پاس امانۃً محفوظ ہیں۔ یعنی نا سمجھ یتیموں کو مال نہ دو ورنہ وہ ضائع کردیں گے۔
(۸)۔ اس سے معلوم ہوا کہ مال سنبھالنا بھی عبادت ہے کیونکہ دین و دنیا کے ہزاروں کام اس سے انجام پاتے ہیں اور فرائض کے شرائط بھی فرض ہوتے ہیں۔ جیسے نماز کے لئے وضو۔
(۹)۔ اچھی بات میں انہیں تعلیم دلانا انہیں اچھے اخلاق سکھانا، انہیں ان کے مال دیئے جانے کی تسلی دینا سب ہی داخل ہیں۔ سبحان اللہ قرآن کریم نے بچوں کا پالنا کس اعلیٰ طریقہ سے سکھایا۔ بچوں سے ابے تبے کرکے نہ بولو ، آپ جناب سے بولو تاکہ وہ بھی ایسا بولنے کے عادی ہوں۔
(۱۰)۔ اس طرح کہ انہیں کچھ پیسے خرچ کرنے کو دو کچھ سودا سلف ان سے منگواؤ تاکہ پتہ لگے کہ ان میں سمجھ سوچ پیدا ہوئی کہ نہیں اور آئندہ مال کو سنبھال سکیں گے یا نہیں۔ معلوم ہواکہ مال کمانا کمال نہیں مال خرچ کرنا کمال ہے۔ کمانا سب جانتے ہیں، خرچ کرنا کوئی کوئی جانتا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ دین کے ساتھ دنیا بھی بچوں کو سکھانا ضروری ہے ۔
(۱۱)۔ اس آیت میں صاحبین کی دلیل ہے کہ اگر بچہ بالغ ہو کر بھی مال نہ سنبھال سکے تو اس کا مال کبھی اس کے سپرد نہ کیا جائے امام صاحب کے نزدیک پچیس سال کی عمر میں سپرد کردیا جائے۔ اٹھارہ برس بلوغ کی انتہائی مدت ہے۔ سات سال اور انتظار دیکھو (روح)دلائل کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ بہرحال اس آیت سے معلوم ہوا کہ مال کی حفاظت بہت اہم ہے کہ اس پر دین و دنیا کے بہت سے کام موقوف ہیں۔

04 Surah Of Quran,
Read Complete Surah An-Nisa,
Surah An-Nisa Download,
Surah An-Nisa Listen Online,

About Moiz

Check Also

Surah Al Maida

Introduction Of Surah Al-Maida And Download Mp3

Introduction Of Surah Al-Maida And Download Mp3   Download Surah Al-Maida Mp3 Your browser does …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *